اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سلطنت برطانیہ کی تاریخ اسلامی ممالک میں انتشار پھیلانے اور حکومت کرنے کے عنوان سے معروف رہی ہے اور اس کے بدنام تاریخ نعرہ "اختلاف ڈالو اور حکومت کرو" (Divide & rule OR Divide & conquer) سے بھی ہر کوئی واقف ہے۔
قدیم الایام سے فرقہ سازی اور ادیان و مذاہب کی شاخیں بنانا عالم اسلام میں برطانوی خفیہ اور خارجہ اداروں کے ایجنڈے میں شامل ہے؛ وہابیت، بہائیت، قادیانیت، پرویزیت اور درجنوں دوسرے فرقوں کا اختراع عالم اسلام کو اتحاد و یکجہتی سے دور کرنے کے لئے برطانوی خفیہ اداروں کی پالیسی کا انجام ہے اور اس کے نتیجے میں کئی اسلامی ممالک اس برطانوی جال میں گرفتار ہوئے اور ان ممالک کو آج پوری دنیا میں انتہاپسندی وغیرہ جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے؛ کیونکہ وہ آج بھی اسی برطانی پالیسی پر کاربند اور یہود و نصاری کی ریشہ دوانیوں کا حصہ بن کر امت کو کمزور کر رہے ہیں اور قرآن و اسلام کے دشمنوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔
اٹھارہویں صدی کے برطانوی جاسوس مسٹر ہمفر (Mr. Hempher) (مسٹر ہمفرے) کا نام تقریبا سب ہی نے سن رکھا ہے؛ ہمفر اور آٹھ دیگر برطانوی جاسوسوں کو برطانوی وزارت نوآبادیات [موجودہ ایم آئی 6] کی طرف سے مشن سونپا گیا کہ اسلامی ممالک میں پہنچ کر وہاں کی حکومتوں کی جاسوسی کریں۔ ہمفر ترکی پہنچا اور اپنا تعارف "محمد" کے نام سے کروایا اور وہاں اسلامی علوم اور قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہوا۔ [شیخ محمد بننے کے لئے]
ہمفر بعدازاں عراق جاکر محمد بن عبدالوہاب سے ملا اور اس کے ساتھ نہایت قریبی دوستانہ روابط استوار کئے اور ابن عبدالوہاب کی خصوصیات دیکھ کر اس کو اپنے مشن کے لئے نہایت مناسب شخص قرار دیا اور اس سے مسلمانوں کے درمیان انتشار و اختلاف پھیلانے اور عوام کو عثمانی سلطنت بغاوت پر اکسانے اور ان کے قومی اور جغرافیائی تعصبات کو مشتعل کرنے کے لئے اپنے آلہ کار کے طور پر چن لیا۔
ابن عبدالوہاب نے ہمفر کی تحریک پر اسلامی احکام و تعلیمات کے خلاف اپنے خاص نظریات کی پرچار کا آغاز کیا اور دعوائے نبوت کی سرحد تک بھی پہنچا! [پرویز، مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ کی طرح، گوکہ ہندوستان میں قادیانیت سے 20 سال پہلے انیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں بننے والے فرقے کے عمائدین نے بھی بہت عجیب و غریب دعوے کئے جنہیں زیادہ سنجیدہ نہیں لیا گیا]۔
آخرکار ہمفر کی کوششوں سے، محمد بن عبدالوہاب نے ـ جو تاریخی متون اور اس زمانے کی شخصیات اور علماء کی شہادت کے مطابق، ایک سرکش، نہایت تندخو اور سطحی فکر کا مالک نوجوان تھا ـ محمد بن سعود کے ساتھ مل کر 1143ھ میں نئے مذہب کی بنیاد رکھی۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ وہابیت کا نام محمد بن عبدالوہاب کے باپ کے نام سے ماخوذ ہے لیکن چونکہ عبدالوہاب اپنے بیٹے کو گمراہ اور منحرف سمجھتا تھا لہذا وہابی فرقے کے پیروکار اس نام اور نسبت کو صحیح نہیں سمجھتے اور اپنے سلف صالح کی پیروی کا مدعی ہوکر سلفی کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں!
جاری
بقلم ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲